Legal Document View

Unlock Advanced Research with PRISMAI

- Know your Kanoon - Doc Gen Hub - Counter Argument - Case Predict AI - Talk with IK Doc - ...
Upgrade to Premium
[Cites 0, Cited by 0]

Lok Sabha Debates

Regarding Recruitment Of Teachers In Rajkiya Vidyalaya In Amroha Parliamentary ... on 22 March, 2021

Seventeenth Loksabha > Title: Regarding recruitment of teachers in Rajkiya Vidyalaya in Amroha Parliamentary Constituency, Uttar Pradesh.

कुंवर दानिश अली (अमरोहा): माननीय सभापति जी,आपने मुझे एक बहुत ही महत्वपूर्ण मुद्दे पर बोलने का अवसर दिया,इसके लिए बहुत-बहुत धन्यवाद ।

       देश के अन्दर एमएसडीपी योजना के तहत हजारों राजकीय कन्या विद्यालय हैं,जो बन गए हैं,अच्छी कंडिशन में हैं, लेकिन उनमें टीचर्स को नियुक्त नहीं किया गया है । जब यह सरकार आई थी, तो ‘सबका साथ,सबका विकास और सबका विश्वास’ की बात करके आई थी । लेकिन एक ऐसी योजना, जो माइनोरिटी डॉमिनेटेड-कंसंट्रेटेड डिस्ट्रिक्ट्स और ब्लॉक्स में शुरू की गई,वह अपना दम तोड़ रही है ।

       देश में ऐसी हजारों जगहें हैं । मैं अपने लोक सभा क्षेत्र की बात करता हूं । अमरोहा जिले में बास्कलां में राजकीय विद्यालय बन गया है, हस्तांतरित हो गया है, लेकिन वहां एक भी टीचर नहीं है । वहां केवल बिल्डिंग बनकर खड़ी है, लेकिन एक भी टीचर नियुक्त नहीं किया गया है । हापुड़ जिले में, मेरे लोक सभा क्षेत्र के गढ़मुक्तेश्वर ब्लॉक के अनूपपुर डिबाई गांव में मैं खुद जाकर देखकर आया हूं, वहां बहुत खूबसूरत बिल्डिंग बनी है, लेकिन कोई टीचर नहीं है । गढ़मुक्तेश्वर ब्लॉक के ही शेरपुर में एक भी टीचर नहीं है । …(व्यवधान)

       माननीय सभापति जी, मैंने स्टॉपवॉच लगा रखी है, मेरा दो मिनट अभी पूरा नहीं हुआ है । …(व्यवधान) मैं आपके माध्यम से सरकार से कहना चाहता हूं, माननीय एजुकेशन मिनिस्टर यहां बैठे हैं । माननीय मंत्री जी सदन को और पूरे देश को आश्वस्त करें कि ऐसी जो रुकी हुई योजनाएं हैं, जहां बच्चों को पढ़ाने का काम किया जाना है, जहां कन्याओं को पढ़ाने का काम किया जाना है, वहां इस काम को सुनिश्चित किया जाए, क्योंकि आपकी सरकार का “बेटी बचाओ, बेटी पढ़ाओ” का नारा है । आप कम से कम सदन को यह आश्वस्त करें कि जो ऐसे स्कूल्स हैं, उनमें टीचर्स नियुक्त होंगे और जो रुके हुए निर्माणाधीन कार्य हैं, उनको पूरा किया जाएगा । धन्यवाद ।

کنور دانش علی (امروہہ): محترم چیرمین صاحب، آپ نے مجھے ایک بہت ہی اہم موضوع پر بولنے کا موقع دیا، اس کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔        ملک کے اندر ایم۔ایس۔ڈی۔پی۔ یوجنا کے تحت ہزاروں راجکیہ کنیا وِدیالیہ ہیں، جو بن گئے ہیں، اچھی کندیشن میں ہیں، لیکن ان میں ٹیچرس کو تقرر نہیں کیا گیا ہے۔ جب یہ سرکار آئی تھی تو سب کا ساتھ سب کا وِکاس  اور سب کا وِشواس  کی بات کرکے آئی تھی۔ لیکن ایک ایسی یوجنا جو مائنوریٹی ڈومینیٹِڈ ضلعوں اور بلاکس  میں شروع کی گئی، وہ اپنا دم توڑ رہی ہے۔ ملک میں ایسی ہزروں جگہہ ہیں۔ میں اپنے پارلیمانی حلقہ کی بات کرتا ہوں۔ امروہہ ضلع میں بانس کلا میں راجکیہ وِدیالیہ بن گیا ہے، ہستانترت ہو گیا ہے، لیکن وہاں ایک بھی ٹیچر نہیں ہے۔ وہاں صرف بلڈنگ بن کر کھڑی ہے، لیکن ایک بھی ٹیچر کا انتخاب نہیں کیا گیا ہے۔ ہاپوڑ ضلع میں میرے پارلیمانی حلقہ کے گڑھ مکتیشور بلاک  کے انوپ پور ڈیبائی گاوُں میں، میں خود جا کر دیکھ کر آیا ہوں، وہاں بہت ہی خوبصورت بلڈنگ بنی ہے، لیکن کوئی ٹیچر نہیں ہے، گڑھ مکتیشور بلاک کے ہی شیر پور میں ایک بھی ٹیچر نہیں ہے (مداخلت)۔۔۔        محترم چیرمین صاحب، میں نے اسٹاپ واچ لگا رکھی ہے، میرا دو منٹ ابھی پورا نہیں ہوا ہے (مداخلت) میں آپ کے ذریعہ سرکار سے یہ کہنا چاہتا ہوں،محترم وزیرِ تعلیم یہاں بیٹھے ہیں، محترم وزیرِ اس ایوان کو  اور پورے ملک کو یقین دلائیں کی ایسی جو رُکی ہوئی اسکیمس ہیں، جہاں بچوں کو پڑھانے کا کام کیا جانا ہے، جہاں لڑکیوں کو پڑھانے کا کام کیا جانا ہے، وہاں اس کام کو سُنیشچِت کیا جائے، کیونکہ آپ کی سرکار کا  بیٹی بچاوُ، بیٹی پڑھاوُ کا نارہ ہے۔ آپ کم سے کم اس ایوان کو یہ یقین دلائیں کہ جوایسے اسکولز، ان کے ٹیچرس منتخب ہوں گے اور جو رُکے ہوئےنِرمانادھین  کام ہیں، ان کو پورا کیا جائے گا۔        شکریہ